چیف جسٹس کا جاتی امراء، ماڈل ٹاؤن اور گورنر ہاؤس سے فوری رکاوٹیں ہٹانے کا حکم

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں کی بندش اور صاف پانی سے متعلق لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور پنجاب کی بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جاتی امراء، گورنر ہاؤس، ماڈل ٹاؤن، جامعہ قادسیہ، حافظ سعید کی رہائشگاہ، چوبرجی اور ایوان عدل سے رات تک رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور ہوم سیکرٹری حلف دیں کہ رات تک تمام رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے کہا کہ رکاوٹیں دھمکیاں ملنے کی وجہ سے لگائی گئیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘کیا مجھے دھمکیاں نہیں ملتیں، وزیراعلیٰ کو ڈرا دھمکا کر گھر میں نہ بٹھائیں اپنی فورسز کو الرٹ کریں’۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ عوامی آدمی ہیں اور انہیں کہنا چاہیے شہباز شریف کسی سے نہیں ڈرتا۔ چیف جسٹس نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی طرح آپ نے بھی عدالت آکر اچھی روایت قائم کی، ہم آپ کے مشکور ہیں۔ سماعت کے دوران صوبائی وزیر رانا مشہود کے روسٹرم پر آنے پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ کےساتھ آنے والے وزراء سن لیں عدالت میں پھرتیاں نہ دکھائی جائیں۔ علاوہ ازیں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پنجاب میں پولیس مقابلوں کا بھی از خود نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے  آئی جی پنجاب کو حکم دیا کہ وہ تمام پولیس مقابلوں کی رپورٹ عدالت میں ایک ہفتے  میں پیش کریں کے کتنے بندے مارے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل چیف جسٹس نے کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران شہری نقیب اللہ کی ہلاکت کا ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد جسٹس ثاقب نثار نے راؤ انوار کی جانب سے کیے جانے والے مقابلوں کی رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: