جہانگیرترین نےزرعی آمدن چھپائی،نااہلی ہوسکتی ہے،عدالت عظمیٰ

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےجہانگیرترین کی نااہلی سےمتعلق حنیف عباسی کی درخواست پرسماعت کی۔ وکیل صفائی سکندر مہمند نےتحریری معروضات عدالت میں پیش کیں۔ انہوں نےدلائل میں موقف اپنایاکہ الیکشن فارم میں صرف ملکیتی زمین کی تفصیل مانگی گئیں، جہانگیرترین نےکاغذات نامزدگی میں کچھ نہیں چھپایا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نےکہافرض کریں کسی شخص کے پاس ذاتی زرعی اراضی نہ ہو، لیکن لیز زرعی اراضی سے10ارب کی آمدن ہو تو وہ شخص الیکشن فارم میں کیالکھےگا۔ وکیل سکندربشیرنےکہا اس صورت میں الیکشن فارم میں کچھ لکھا نہیں جائےگا، ہمارا موقف ہے لیز زمین پر ٹیکس مالک ادا کرتاہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جہانگیر ترین کےپاس چاہےزرعی زمین لیز پر تھی، لیکن انہیں آمدن ملی، قانون کےتحت زرعی آمدن حاصل کرنے والا ہر شخص ٹیکس دے گا، جہانگیر ترین کو بھی زرعی آمدن پر5 فیصد کےاعتبار سےٹیکس دینا تھا۔وکیل سکندر بشیر نے کہا صوبائی ایگری کلچرل ٹیکس اتھارٹی نے جہانگیر ترین کے گوشواروں کو منظور کیا، اب زرعی گوشوارے دوبارہ نہیں کھول سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا ہمارے سامنے سوال ایمانداری کا ہے، ایمانداری کا پتہ کنڈیکٹ سے چلتا ہے، جہانگیر ترین نے مجموعی زرعی آمدن الیکشن کمیشن کو نہیں بتائی۔ حنیف عباسی کے وکیل نےکہاجہانگیر ترین کی بد نیتی پہلے دن سے ظاہر ہے،آج تک خسرہ گرداوری یا محکمہ مال کا ریکارڈ پیش نہیں کیاگیا،لیز معاہدوں کےذریعےمنی لانڈرنگ کی گئی،مقدمہ کی مزید سماعت آئندہ ہفتے منگل تک ملتوی کر دی گئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.