سپریم کورٹ نے عمران خان،جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

عمران خان نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے کہا سچ بولنے کا فائدہ یہ ہےکہ آپ کو یاد نہیں رکھنا پڑتا کہ پہلے کیا کہا تھا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاکہ لندن فلیٹس ظاہر کیا گیا لیکن کمپنی کبھی ڈکلئیر نہیں کی گئی۔ عمران کے وکیل نعیم بخاری نے جواب دیا کہ عمران خان نہ بینیفشل مالک تھے اور نہ شیئر ہولڈر اس لیے ظاہر نہ کی۔ دوران سماعت اکرم شیخ کا دلائل میں کہنا تھا کہ عمران خان نے سماعت میں 18مرتبہ موقف بدلااور 18سچ بولے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان سے 2002 کےاثاثے بتاتے ہوئے غلطی ہوسکتی ہے غلط بیانی نہیں، کاغذات میں اثاثے یاغلط بیانی کی بات 2002کی ہے،2002 کی غلط بیانی پر موجودہ الیکشن پر نااہلی مانگی گئی ہے۔ عمران کے وکیل کا کہنا تھا کہ این ایس ایل کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ پاؤنڈرکھے گئے،جولائی 2007میں این ایس ایل اکاؤنٹ سےعمران خان کے اکاؤنٹ میں 20 ہزار یورو کی رقم آئی۔ مارچ 2008 میں اکاؤنٹ میں 22ہزار یوروکی رقم آئی۔ یہ رقوم 2012 میں کیش کرائی گئیں۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مقدمے سے ہٹ کرعدالت نے سوالات پوچھے، عدالت کے سوالات پردستاویزات لائی گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجموعی تصویر سامنے رکھ کر دیکھنا ہے کہ بددیانتی ہوئی یا نہیں، ہم سچ کی تلاش کے لیے ہی یہ سماعت کررہے ہیں، یہ نہ سمجھا جائے کہ فیصلہ کل آجائے گا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق دائر درخواست کی ہوئی ہے۔جہانگیر ترین نااہلی کیس میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ٹرسٹ خود سے ایک قانونی ادارہ ہے جس پر وکیل سکندر بشیر کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کی کوئی انکم نہیں ہے، جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ میں کہاں لکھا ہے کہ جائیداد کو کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جہانگیرترین کے تحریری جواب سے افسوس ہوا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ جہانگیرترین کے پاس اختیار ہے کہ وہ انکم کسی کو دینے کی ہدایت دیں، کیا جہانگیر ترین کا ٹرسٹ پر کنٹرول نہیں، ٹرسٹ کے بینی فیشری ہونے کے ناطے اسے بھی گوشواروں میں ظاہرکرناچاہیے تھا جب کہ  جہانگیرترین نے ٹیکس اتھارٹی کو ٹرسٹ کا بینیفیشل بچوں کا بتایا، جہانگیرترین کے موقف میں تضاد ہے، کاغذات نامزدگی میں کسی کوبینفیشل نہیں بنایاگیا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.