سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں صاف پانی کیس کی سماعت

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں صاف پانی کیس کی سماعت کی،وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان، ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل  عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کےدوران چیف جسٹس اور وزیراعلیٰ پنجاب کےدرمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔چیف جسٹس نے وزیراعلی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا میں ٹھیک کر رہا ہوں؟وزیراعلی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور بولے جی آپ ٹھیک کر رہے ہیں، اگر میں کچھ بولا تو حکم عدولی ہو جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حکم عدولی نہیں کر سکتے، آپ ایک لیڈر ہیں، میں جانتا ہوں آپ اگلے مورچوں پر لڑنے والے ہیں،چیف جسٹس نے بطور وزیراعلیٰ شہباز شریف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ  میاں صاحب ایک آپ ہی تو ہیں جو اکیلے عدلیہ کی عزت کررہے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب آپ یہ بات اپنی پارٹی کو بھی سمجھائیں،ہم صاف اور شفاف الیکشن کروائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ اگلے وزیراعظم آپ ہوں گے۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ میری نوکری کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ اس پر کمرہ عدالت میں قہقے لگے۔ سماعت کےدوران چیف جسٹس نےاستفسارکیاکہ آپ نے ہسپتالوں کا ویسٹ تلف کرنے کا کام نجی کمپنیوں کے حوالے کیوں کیا؟ کیا وہ کمپنیاں اپنا کام درست طریقے سے کر رہی ہیں، عدالت آپ کے تعاون اور اشتراک سے عوامی مسائل کا خاتمہ چاہتی ہے۔ دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کول پاور پلانٹس کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہیں ہوگا؟ جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات کر رہے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب نےعدالت کویقین دہانی کرواتے ہوئےکہاکہ تین ہفتوں میں صاف پانی کی فراہمی اور واٹر ٹریٹمنٹ کا جامع منصوبہ پیش کردیں گے،،،جس پرسماعت ملتوی  کردی گئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: