سپریم کورٹ نےپاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کوتحلیل کردیا

پی ایم ڈی سی: چیف جسٹس ثاقب نثار کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پی ایم ڈی سی کی اپیل پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا آرڈیننس کے منسوخ ہو جانے کے بعد کونسل قانونی حیثیت کھو چکی ہے، ادارے میں ایڈہاک باڈی کی تشکیل کے لیے فریقین تجاویز دیں۔ ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے تجویز پیش کی کہ سپریم کورٹ کے نامزد ممبر پی ایم ڈی سی جسٹس ریٹائرڈ شاکراللہ جان کو عبوری سیٹ اپ کا چیئرمین بنایا جائے اور ملک کے نامور جامعات کے سربراہان کو سیٹ اپ میں شامل کیا جائے۔نجی میڈیکل کالجز کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے گزشتہ روز دلائل میں موقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سے متعلق آرڈینینس 2015 کابینہ اور مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر بنایا گیا، آرڈییننش کی معیاد ختم ہو جانے کے بعد پی ایم ڈی سی، اس کی پالیسیاں اور اقدامات غیر قانونی ہیں، دنیا بھر میں 26 لاکھ جبکہ پاکستان میں 5 لاکھ ڈاکٹرز کی ضرورت ہے، نجی میڈیکل کالجز اچھے ڈاکٹرز پیدا کریں گے تو پاکستان کی دنیا بھر میں نیک نامی کا سبب بنیں گے۔عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایڈہاک کمیٹی میڈیکل کالجز کی انسپکشن کمیٹی خود تشکیل دے گی۔ اٹارنی جنرل کونسل کا اسٹریکچر ترتیب دیں، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: