سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں 540 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنا دیا۔

فیصلے کے ابتدائی نکات میں کہا گیا ہے کہ رقم کیسے قطر منتقل کی گئی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں تحقیقات کی جائیں کہ رقم قطر کیسے گئی، عدالت ن لیگ کے دلائل سے مطمئن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا حسین اور حسین نواز کم عمری میں فلیٹ خریدنے کی پوزیشن میں تھے۔ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں 540 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنا دیا۔ فیصلے کے ابتدائی نکات میں کہا گیا ہے کہ رقم کیسے قطر منتقل کی گئی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں،

فیصلے میں پانچ رکنی لارجر بینچ کے دو ججز نے اختلافی نوٹ لکھا جبکہ تین نے معاملے کی مزید تحقیقات پر اتفاق کیا۔ جسٹس گلزار احمد اورجسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ وزیراعظم عوام کےسامنےصادق وامین نہیں رہے۔ الیکشن کمیشن وزیراعظم کوڈی نوٹیفائی کرے۔ دونوں ججز نے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم اور ان کے بچوں کے بیانات بھی مسترد کر دیے

سپریم کورٹ نے قطری شہزادے کے خط کو مسترد کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے 7 روزمیں جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دے دیا۔ جے آئی ٹی 60 روز میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ جے آئی ٹیم میں آئی ایس آئی، ایم آئی، اسٹیٹ بینک، نیب، ایف آئی اے سمیت مخلتف اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔فیصلہ سنانے سے پہلے ججز نے کہا کہ امید ہے فیصلہ جو بھی ہو، عدالت میں رائے کا اظہار نہیں کیا جائے گا۔ فیصلے کا تناسب 3.2 ہے۔

کیس کا فیصلہ 5 رکنی لارجر بنچ کےسربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کورٹ روم نمبر ون میں پڑھ کر سنایا۔اس سے قبل مختلف سیاسی رہنما باری باری سپریم پہنچنے۔ کورٹ کے باہر میڈیا ، سیکورٹی اسٹاف اور سیاسی کارکنوں کا رش ہے ۔پاناما کیس کا فیصلہ سننے کیلئے آنے والوں سے کمرہ عدالت بھر ہوا تھا۔کمرے میں تل دھرنے تک کی جگہ نہیں تھی۔ صرف ڈپٹی رجسٹرار کے دستخط شدہ پاس رکھنے والوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔کمرہ عدالت میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنما موجود تھے جن میں مریم اورنگزیب، مصدق ملک، عابد شیر علی، دانیال عزیز، طارق فضل چوہدری، طلال چوہدری، شیریں مزاری، عارف علوی، نعیم الحق اور فواد چوہدری شامل ہیں

پاناما کیس کا فیصلہ 23 فروری کو سپریم کورٹ کے سینیئرترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے روزانہ کی بنیادپرسماعت کے بعد محفوظ کیا تھا۔ بینچ کے دیگرارکان میں جسٹس شیخ عظمت سعید ،جسٹس اعجاز افضل،جسٹس گلزاراحمد اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔ پاناما کیس کا تفصیلی فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.