سپریم کورٹ نےڈاکٹر شاہد مسعود کا جواب مستردکردیا

ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوؤں سےمتعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی طرف سے جمع کرایا گیا جواب مسترد کرتے ہوئے ان پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیاجبکہ حکومت پنجاب اور اٹارنی جنرل کو نوٹسزبھی جاری کردیئے۔  سماعت کےدوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ   پیمرا بتائے کہ شاہد مسعود پر کتنی پابندی لگ سکتی ہیں اور ان کا چینل کتنی دیر کے لئے بند ہوسکتا ہے؟، معلوم کرنا ہے کہ اس معاملے میں چینل کی کیا ذمہ داری تھی۔ چیف جسٹس نے شاہد مسعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نہ پہلے معافی مانگی اور نہ آج، جبکہ آپ کا جواب بھی قابل قبول نہیں۔شاہد مسعود کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ان کا موکل اپنے جواب میں شرمندگی کا اظہار کرچکا ہے اور اب عدالت میں معافی بھی مانگ لیتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سماعت میں ہی کہہ دیاتھا کہ معافی کاوقت گزر چکا۔ وکیل نے کہا کہ موکل اپنی غلطی کو تسلیم کرتاہے، یہ توہین عدالت کا کیس ہے تو غیر مشروط معافی مانگ لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے میں ہم اچھا فیصلہ دیں گے اور ناانصافی نہیں ہوگی۔ عدالت نے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ شاہد مسعود نے دعویٰ کیا تھا کہ زینب کے قاتل عمران علی کے فارن بینک اکاؤنٹس ہیں اور اس کا تعلق چائلڈ پورنو گرافی کی عالمی تنظیم سے ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: