سکول فیس کے پیسے نہیں تو بکری دے دیں فیس کی جگہ بھیڑ،بکری بھئ دے سکتے ہیں، زمبابوے حکومت

ملک کے وزیر تعلیم لیزاروس دکورا نے کہا ہے کہ ٹیوشن فیس کو وصول کرنے میں سکولوں کو والدین کے ساتھ نرمی برتنا چاہیے اور انھیں نہ صرف مویشی قبول کرنے چاہیں بلکہ اس کے بدلے میں ان سے خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔‘سنڈے میل کے مطابق بعض سکول پہلے ہی سے فیس کے بدلے مویشی لینے پر عمل کر رہے ہیں۔

وزارت تعلیم سے وابستہ ایک افسر نے وزیر موصوف کے بیان کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا: ‘اس طرح کے بچوں کے والدین مویشیوں کو دے کر فیس ادا کرسکتے ہیں۔ یہ بیشتر دیہی علاقوں کے لیے ہے لیکن شہری علاقوں میں بسنے والے دیگر والدین دوسرے ذرائع کا بھی استعمال کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر وہ سکول میں بعض کاموں کو انجام دے سکتے ہیں۔’حکومت نے گذشتہ ہفتے پارلیمان میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت بینکوں کے قرضوں کی واپسی بھیڑ، بکری اور دیگر مویشیوں کے ذریعے کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد سکول کی فیس ادا کرنے کے لیے بھی اس کی اجازت دی گئی۔ایک مقامی اخبار کے مطابق زمبابوے میں نقدی کا بحران پیدا ہونے کی وجہ سے عام طور پر لوگوں کو کیش کے لیے بینکوں کے باہر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔سکول کی فیس ادا کرنے کے لیے مویشیوں کی پیشکش کا معاملہ سوشل میڈیا پر بھی توجہ کا مرکز ہے جس پر لوگ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.