ترکی اور امریکا کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھ گئی

رجب طیب اردوان نےانقرہ میں امریکی سفیرجان باس کو اپنے ملک کی نمائندگی سے الگ قرار دے دیا اورکہا کہ میں اور میرے وزرا اب انہیں اپنےملک کا نمائندہ تصور نہیں کرتے۔ ترک صدر نے کہا کہ اگر ویزوں کا اجرا روکنےکافیصلہ امریکی سفیرکاہے تو وہ اپنے منصب کوچھوڑ دیں اور ہم انقرہ میں امریکی سفیر کے استقبال کے لیے تیار نہیں جبکہ ترکی کے اعلیٰ حکام  بھی ان کے ساتھ ملاقاتوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ امریکا کے ساتھ ویزوں کی معطلی کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے اردوان نےکہاکہ اس بحران کو ہم نےجنم نہیں دیا، اس کا ذمےدار امریکا ہے، امریکا دونوں ممالک کے تنازعات کو ہوا دے رہا ہے اور امریکی سفارت خانوں میں اپنے’’ایجنٹس‘‘ کو گھسنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ یاد رہےکہ ترکی میں امریکی سفارتی مشن نے8 اكتوبرکوامیگریشن کے سوا تمام ویزوں کا اجرا روک دیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک میں محاذ آرائی اور لفظی گولہ باری عروج پر پہنچ چکی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.