روس میں ڈرون تباہ کرنے والے ہتھیار کے کامیاب تجربات

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ نے اس ہتھیار کو ’’شارپنل امیونیشن‘‘ لکھا ہے یعنی اس سے کسی بندوق کی طرح نوک دار گولیاں فائر کی جائیں گی جو ممکنہ طور پر کم بلندی پر اُڑنے والے کسی ڈرون کو تباہ کردیں گی۔ ابتدائی تجربات میں اس ہتھیار سے کچھ ’’مثبت نتائج‘‘ ضرور حاصل ہوئے ہیں لیکن اس کا باضابطہ استعمال ابھی بہت بعد کی بات ہے۔ اس ہتھیار کا لانچر 30 ملی میٹر سے 57 ملی میٹر دہانے کا ہوسکتا ہے۔ لندن میں ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ کے دفاعی ماہر ایگور ستیاگن کہتے ہیں کہ شاید یہ ہتھیار کسی مشین گن کی طرح درجنوں کی تعداد میں نوک دار گولیاں بڑی تیز رفتاری سے اپنے ہدف پر فائر کرے گا۔ دوسری جانب امریکا کے ’سینٹر فار نیول اینالیسس‘ سے وابستہ مائیکل کوفمین کہتے ہیں کہ اس وقت روسی افواج کے پاس ڈرون تباہ کرنے کی کوئی مؤثر ٹیکنالوجی موجود نہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ ہتھیار اس مسئلے کے فوری حل کے طور پر تیار کیا جارہا ہو۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.