ہندوستانیوں کو جدت کے ساتھ اپنی رسومات پر شرمندگی کا سامنا

كچرو اور مونیکا نامی نوجوان جوڑے کی محبت کی کہانی دو سال پہلے گجرات میں یومیہ اجرات کے دوران پروان چڑھی۔مختلف ذات کے ہونے کی وجہ سے اسے گاؤں کی بدنامی سمجھتے ہوئے اور انہیں سزا دینے کے لیے عریاں کرکے گھمایا گیا۔پولیس انسپکٹر رویندر سنگھ نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد لڑکی کا ‘ناترا’ایک اور نوجوان سے کر دیا گیا۔ اس میں پانچ ہزار روپے لیے گئے اور کل 80 ہزار روپے کا معاہدہ کیا گیا۔ خیال رہے کہ ناترا ایک قبائلی رواج ہے جس میں پیسے کے لین دین کے بعد مرد اور عورت میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔    صدیوں سے ہندوﺅں میں شوہر کی موت کے بعد اس کی بیوی کو زندہ جلا دینے کی رسم جسے ‘ستی’ بھی کہا جاتا ہے موجود ہے، اس پر برطانوی سامراج نے 1859 پر پابندی لگا دی تھی مگر اب بھی ہندوستان کے مختلف حصوں میں اس پر عمل کیا جاتا۔ لڑکیوں کی نسل کشی کا قبل از اسلام رواج آج بھی بھارت میں موجود ہے۔ جس میں نہ صرف لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے بلکہ لڑکیوں کو پیدائش سے قبل ہی ماں کے پیٹ میں ختم کروا دیا جاتا ہے، کئی بار تو پیدائش کے بعد بھی ان ننھی پریوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے، اس روایت پر ہندوستان میں انیسویں صدی سے پابندی عائد ہے مگر، افسوسناک امر یہ ہے کہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں اس پراب بھی  عمل کیا جاتا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.