بھارت میں جہیز نہ دینے پر شوہر نے بیوی کا گردہ چرا لیا

ریاست شمالی بنگال کی 28 سالہ خاتون ریتا سرکار  کا کہنا ہے کہ دو سال قبل اسے جب معدے کا درد ہوا تو اس کے شوہر نے اپینڈکس سرجری کا انتظام کیا لیکن جب 2017 کے اواخر میں دو مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے پتہ چلا کہ میرا ایک گردہ غائب ہے۔خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کا شوہر اس سے اکثر جہیز کا مطالبہ کیا کرتا تھا۔خیال رہے کہ بھارت میں 1961 سے دلہن کے گھر والوں کی جانب سے دلہے کو جہیز دینے پر پابندی عائد ہے تاہم اس کے باوجود بھارت میں دلہے والوں کو جہیز دینے کی رسم عام ہے۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر اسے علاج کے لیے کلکتہ کے ایک اسپتال میں لے کر گیا جہاں اس نے اور میڈیکل اسٹاف نے بتایا کہ اپینڈکس کے علاج کے بعد وہ ٹھیک ہو جائے گی۔خاتون نے بتایا کہ اس کے شوہر نے کہا تھا کہ اپینڈکس کی سرجری کے بارے میں کلکتہ میں کسی کو بھی کچھ مت بتانا۔ریتا سرکار نے بتایا کہ کچھ مہینوں بعد اس کی طبیعت خراب ہوئی تو میکے والے اسے اسپتال لے کر گئے جہاں اسکینز کے ذریعے پتہ چلا کہ میرا تو ایک گردہ ہی غائب ہے۔خاتون کا کہنا تھا کہ اس وقت مجھے پتہ چلا کہ میرے شوہر نے کیوں مجھے خاموش رہنے کا کہا تھا، شوہر نے میرا گردہ فروخت کیا کیونکہ میرے گھر والوں نے ان کا جہیز کا مطالبہ پورا نہیں کیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: