1984ء میں سکھوں کا قتل عام، بھارتی سپریم کورٹ کا دوبارہ تحقیقات کا حکم

بھارت: بھارتی سپریم کورٹ نے سابقہ رپورٹ پرعدم اطمیان کا اظہار کرتے ہوئے نئی 3 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے کر 1984ء میں ہونے والے سکھوں کے قتل عام کی از سر نو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ بھارتی چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے دیا۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت تحقیقاتی ٹیم کے لیے اہل افراد کے نام بھی طلب کئے اور بعد ازاں 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی جس کی سربراہی ہائی کورٹ کے سابق جج کریں گے اور ایک سابق اور ایک حاضر پولیس افسر ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ عدالت نے کہا کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے سکھوں کے قتل عام پر 241 مقدمات کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا جس میں سے 186 مقدمات کو بغیر تفتیش کے ختم کر دیا گیا چنانچہ سابق تحقیقاتی کمیٹی کو ختم کر کے نئی ٹیم تشکیل دی جائے جو ایک مقدمے کی از سر نو تفتیش کرے۔ 1984ء میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد پورے بھارت میں نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے جس کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکثریت سکھوں کی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: