بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنادیا

بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کو شہید کئے جانے کے کیس کی سماعت ہوئی اور سپریم کورٹ نے بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی کے خلاف سی بی آئی کی اپیل کو بحال کردیا ہے۔فیصلہ سنایا گیا کہ بابری مسجد مقدمہ کسی جج کو ٹرانسفرنہیں کیاجائیگا اور معمول کے حالات میں بابری مسجدمقدمے کے دوران کوئی التوانہیں ہوگا، کلیان سنگھ کے گورنر رہنے تک انکے خلاف کیس رجسٹرنہیں کیاجائیگا اور بابری مسجد کیس4ہفتوں میں رائے بریلی سے لکھنومنتقل کردیاجائیگا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جی پی رہنماؤں کیخلاف سازش کے الزام پر کوئی بھی نیا ٹرائل شروع نہیں کیا جائے گا،تاہم کلیان سنگھ کے خلاف الزامات پر کوئی بھی چارج نہیں لگایا جائے گا جب تک وہ گورنر ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایل کے ایڈوانی نے بابری مسجد کے خلاف تقاریر کی جس کی وجہ سے لوگ مشتعل ہوئے جبکہ ان کے خلاف رائے بریلی میں ٹرائل کیا گیا۔بابری مسجد کو شہید کرنے میں ایل کے ایڈوانی سمیت ایم ایم جوشی اور اوما بھارتی ملوث تھے۔بابری مسجد کو شہید کرنے کا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایل کے ایڈوانی مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تحریک چلا رہے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.