اسرائیل کا شام میں 30 برس میں سب سے بڑا حملہ

اسرائیلی فوج نے شام میں موجود ایرانی پوزیشنز پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ۔اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں میں کم ازکم ایک درجن ایرانی اور شامی اہداف کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس سے قبل شام سے ایک ایرانی ڈرون متنازع علاقے گولان ہائٹس کی اسرائیلی حدود میں داخل ہو گیا تھا جسے اسرائیل نے مار گرایا اور اس کے رد عمل میں ہی شام میں ایرانی ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے گئے۔اسرائیل کی فوج نے ایرانی ڈرون کی اپنی حدود میں موجودگی کو علاقائی حدود کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شام اور ایران آگ سے کھیل رہے ہیں۔

جنگجو گروپ حزب الله کا کہناہے کہ اسرائیلی طیارے کو مار گرانے کا مطلب نئے اسٹریٹجک مرحلے کا آغاز ہے ۔اس سے شام میں اسرائیلی مداخلت میں کمی آئے گی جبکہ امریکی محکمہ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور امریکا اس کی بھرپور حمایت کرتا ہے ۔ایران دانستہ طور پر خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے تنازعات کو ہوا دے رہا ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران خطے کی سیکورٹی کے لیے تیار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام ممالک غلطی پر ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پڑوسی ممالک پر بمباری کرنے سے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرلیں گے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: