حریت پسند کشمیری رہنماء افضل گورو کی آج پانچویں برسی

جون 1969 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں پیدا ہونے والے افضل گورو نے اپنی ابتدائی زندگی میں ایک ہونہار اور ذہین طلب علم کی حثیت سے شہرت پائی۔ افضل گورو ایم بی بی ایس کے طالب علم تھے۔ کشمیر میں بھارتی ظلم اور غلامی کے احساس نے گورو کو ڈاکٹر کے بجائے ایک آزادہ پسند مجاہد بننے پر مجبور کر دیا۔
افضل گورو کی مقبوضہ کشمیر میں مقبولیت بھارتی حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ۔ بھارت نے 13 دسمبر 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے فرضی کیس میں افضل گورو کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں بلا ثبوت عوامی خواہش کے نظریہ ضرورت کے تحت خفیہ طور پر 9 فروری 2013 کو پھانسی دے کر جیل کے احاطے میں دفنا دیا۔افضل گورو کی اپنے مشن کے ساتھ وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مجاہد آزادی نے آخری خط میں اپنے خاندان کے افراد سے گذارش کی کہ وہ اُنھیں پھانسی دیے جانے پر افسوس کرنے کے بجائے ان کو حاصل ہونے والے مقام کا احترام کریں اور جدوجہد آزادی جاری رکھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: