میانمار کی فوج کا روہنگیا مسلمانوں کے قتل کا اعتراف

2 ستمبر2017 کو ریاست رخائن کے ایک گاؤں انڈن میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی بدھ مذہب کے پیروکاروں کی جانب سے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ میانمار کے آرمی چیف من آنگ ہلانگ کے دفتر سے جاری بیان میں پہلی مرتبہ تصدیق کی گئی ہے کہ ریاست رخائن کے اندر روہنگیا مسلمانوں کی اجتماعی قبر بھی دریافت ہوئی ہے جنھیں فوج کی جانب سے گزشتہ سال اگست میں دہشت گرد قرار دے کر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ رخائن سے ہجرت کرکے بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے افراد نے بارہا اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ میانمار کی فوج اور مقامی مذہبی گروہ کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم، قتل اور مسلمان عورتوں کا ریپ کیا جارہا ہے۔ انسانی حقوق اور میڈیا نے حقیقت جاننے کی کوشش کی تو میانمار اور مذہبی گروہ کو قصوروار قرار دیا۔ جبکہ اقوام متحدہ اورامریکا سمیت کئی اداروں کی جانب سے ان واقعات کو نسل کشی سے تعبیر کیا گیا تھا۔ آرمی چیف کے دفتر کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث گاؤں کے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو قواعد کی خلاف ورزی پر سزا دی جائے گی۔ میانمار کی ریاست رخائن میں گزشتہ برس فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔ میانمار کی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی تھی جبکہ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں نے جان بچا کر بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کی تھی جہاں ان کی حالات غذائی قلت کے باعث ابتر ہوگئی تھی تاہم ترکی اور اقوام متحدہ کی جانب سے اقدامات کئے گئے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: