میانمار کی انتظامیہ اور فوج کو حالات کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی:برطانوی وزیراعظم

فوج کی ایک اندرونی رپورٹ میں کہا گیا کہ گاؤں کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ سیکیورٹی فورسز روہنگیا مسلمانوں کے قتل، جنسی تشدد، خواتین کے ساتھ زیادتی، گاؤں کے لوگوں کی قیمتی اشیاء چرانے اور گھروں اور مساجد کو نذر آتش کرنے میں ملوث نہیں۔ مزید کہا گیا کہ یہ روہنگیا کمیونٹی کے کچھ عسکریت پسند تھے، جنہوں نے ریاست رخائن میں بے شمار دیہاتوں کو نذر آتش کیا اور جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ وہاں سے فرار ہوئے کیونکہ انہیں دہشت گردوں سے خطرہ تھا۔ فوج کی رپورٹ میں 6 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کے ملک چھوڑنے کے ذمہ دار فوجی جنرل مونگ مونگ سوئے کے تبادلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ جنرل مونگ مونگ سوئے میانمار کی ریاست رخائن میں عسکریت پسندی کے خلاف نام نہاد آپریشن کا انچارج تھا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سینئر عہدیدار نے میانمار کی فوج کو اجتماعی زیادتی اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔ میانمار فوج کے منظم جرائم کی تصدیق بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں کے دورے کے بعد کی گئی۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ میانمار کی فوج نے یہ واضح کردیا ہے کہ اسے احتساب کو یقینی بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائیں کہ اس قسم کے جرائم کرنے والے سزا سے بچ نہ سکیں۔ دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہےکہ روہنگیا مسلمانوں کو نسل کشی جیسی صورتحال کا سامنا ہے  اور میانمار کی انتظامیہ اور فوج کو حالات کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے موقع پر میانمار حکومت کو سخت پیغام دیے جانے کا بھی امکان ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.