متعصب مودی کا اپنے ہی ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر پنڈت لال نہروپر وار

متعصب مودی نے اپنے ہی ملک کی آزادی کے لیے لڑنے والے جواہر پنڈت لال نہروکو بھی نہ بخشا،وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے اس پر ملک کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ملک میں جمہوریت قائم کرنے کا اس کا دعوی مکمل طورپر غلط ہے کیونکہ ہندوستان میں ہزاروں برسوں سے جمہوری روایات ہیں۔ کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے شور شرابہ اور ہنگامے کے درمیان وزیر اعظم مودی نے صدر جمہوریہ کے خطاب پر لوک سبھا میں تحریک شکریہ پر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ملک کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفاد کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کئے، جن کا خمیازہ ملک آج تک بھگت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس كو یہ گھمنڈ ہے کہ ملک كو جمہوریت اسی کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت ہزاروں سال سے قائم ہے۔ ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے کی تقریر کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ‘كانگریس ہمیں جمہوریت کا سبق نہ پڑھائے”۔  وزیراعظم نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ کانگریس لیڈروں کو لگتا ہے کہ ہندوستان کی پیدائش 15 اگست 1947 کو ہوئی اور تبھی یہاں جمہوریت آئی۔ انہوں نے کہا کہ لچھوی سامراج اور بدھ مت کے دور میں بھی جمہوریت کی گونج تھی۔

دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کانگریس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان تقسیم ہوا،جبکہ سردار ولبھ بھائی پٹیل بھارت کے پہلے وزیراعظم ہوتے تو پورے کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہوتا

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: