چین کا پیٹرول گاڑیوں پر پابندی کا فیصلہ

چین: وزارت نے پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے خاتمے کی تیاری کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ چین اس وقت گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں گزشتہ سال 2 کروڑ 80 لاکھ گاڑیاں فروخت ہوئیں جبکہ دنیا بھر میں یہ تعداد 8 کروڑ 80 لاکھ تھی۔چین کی جانب سے روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی کا فیصلہ وہاں بڑھتی ہوئی آلودگی کے مسئلے پر قابو پانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ اس مقصد کے لیے چین صرف بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر لانے کے منصوبے پر پہلے ہی کام کررہا ہے اور وہاں 2016 میں پانچ لاکھ سے زائد ایسی الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئیں، جبکہ ایسی بسوں اور ٹرکوں کو بھی سامنے لایا جارہا ہے۔اسی طرح آٹھ لاکھ الیکٹرک وہیکل پوائنٹس کے نیٹ ورک کو بھی تشکیل دیا جارہا ہے تاکہ روایتی ایندھن پر پابندی کے بعد لوگوں کو مسائل کا سامنا نہ ہو۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.