تھریسامے کا پہلے سے زیادہ بھاری مینڈیٹ کے ساتھ واپس آنے کا عزم

تھریسا مے کا کہنا ہے کہ اچانک عام انتخابات کے فیصلے کے بعد ملکہ برطانیہ سے مل کر انھیں فیصلے سے آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جلد الیکشن کے انعقاد سے بریگزٹ کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گا۔ برطانیہ کو طویل مدت کیلئے استحکام حاصل ہوگا اور مختلف مقامات پر جا کر لوگوں سے ملنا ترجیح ہو گی۔جبکہ تھریسا مے الیکشن سے قبل ٹی وی مباحثے میں حصہ نہیں لیں گی۔دوسری جانب برطانیہ کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ لیبرپارٹی کے لیڈر جیرمی کاربن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھریسا مے نے ہیلتھ کئیر اور تعلیم سے متعلق انتخابی وعدے پورا نہیں کیے اور مباحثے میں شرکت سے بھی کترا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابات فیصلہ کریں گے کہ ملک میں امیر ہی امیر تر ہوگا یا دیگر طبقوں کو بھی ترقی کا حق ملے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.